پاکستان میں ٹرولنگ کے ذریعے بڑی مچھلیوں کا شکارکیسے کریں؟

  ٹرولنگ کے ذریعے شکار     کا طریقہ

ٹرولنگ کے ذریعے ان مچھلیوں کا شکار کیا جاتا ہے جو پانی کی سطح پر تیرتی ہیں جیسے سرمئی، ٹونا، مارلن، آبڑوس، کُند وغیرہ۔ بعض اوقات نیچے کی مچھلی بھی شکار ہو جاتی ہے۔ٹرولنگ فشنگ کا طریقہ کار تھوڑا مختلف ہے۔ اس میں مصنوعی چارہ، جسے “جھیری” یا  Lure  کہا جاتا ہے،  یہ چلتی ہوئی کشتی میں استعمال کیا جاتا ہے۔  ٹرولنگ میں  Lure  کو راڈ اور ریل کی مدد سے لائن پر لگا کر چلتی کشتی کے پیچھے ایک خاص لمبائی پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ کشتی کو ایک خاص رفتار پر چلایا جاتا ہے جس سے مچھلی کو چارہ حرکت کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور وہ اس پر حملہ کرتی ہے اور  Lure  میں پھنس جاتی ہے۔  ٹرولنگ میں جو ریل استعمال کی جاتی ہے، اس میں یہ خاصیت ہوتی ہے کہ جب مچھلی پھنس  جائے تو ریل میں موجود ایک بٹن، جسے  Clicker  کہا جاتا ہے، کی مدد سے ریل آواز نکالنے لگتی ہے۔ اس سے شکاری کو پتا چل جاتا ہے کہ مچھلی ہک میں پھنس چکی ہے۔  یاد رہے کہ ٹرولنگ صرف دن کے وقت کی جاتی ہے، رات کے وقت یہ ممکن نہیں ہوتی۔ 

ٹرولنگ میں     کس کشتی کا استعمال   کرنا چاہئیے؟

ٹرولنگ اگرچہ کسی بھی کشتی میں کی جا سکتی ہے، لیکن بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے چھوٹی کشتی، جسے “ہوڑہ” کہا جاتا ہے، استعمال کی جاتی ہے۔  کراچی اور گردونواح کے ماہی گیر روایتی انداز سے لے کر جدید مشینری تک مختلف کشتیوں اور سامان کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کشتیوں میں استعمال ہونے والے سامان، ان میں افراد کی گنجائش، لمبائی، سمندر میں فاصلے،اور  رفتار کا انتخاب شکار کی نوعیت پر منحصر کرتا ہے۔

 ٹرولنگ کے ذریعے شکار کا طریقہ

ٹرولنگ میں کس کشتی کا استعمال کرنا چاہئیے؟

ہوڑی

سامان: چپو، چھوٹا انجن (کبھی کبھار)، چھوٹا جال، پلاسٹک کی بالٹیاں، اینکر۔

افراد کی گنجائش: 1-2 افراد۔لمبائی: 10-12 فٹ۔

سمندر میں فاصلہ: ساحل کے قریب 2-5 کلومیٹر تک۔زیادہ سے زیادہ رفتار: 5-10 کلومیٹر فی گھنٹہ۔

ہوڑی

ہوڑہ یا ہوڑا

سامان: دستی چپو، چھوٹا انجن، مچھلی پکڑنے کا جال، پانی کی بالٹیاں، فلوٹ، اینکر۔

افراد کی گنجائش: 3-4 افراد۔لمبائی: 15-20 فٹ۔

سمندر میں فاصلہ: 5-10 کلومیٹر تک۔زیادہ سے زیادہ رفتار: 10-15 کلومیٹر فی گھنٹہ۔

ہوڑہ یا ہوڑا

Related Posts